نئی دہلی، 15 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) بہار، مغربی بنگال اور تریپورہ میں بچوں کی شادی کے واقعات زیادہ پائے جاتے ہیں جہاں 40 فیصد سے زیادہ خواتین کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہوئی۔ یہ انکشاف نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس) کے ایک حالیہ سروے میں ہوا ہے۔ یہ سروے ملک کی22 ریاستوں اور مرکز ی علاقوں میں کیا گیا تھا۔
قومی فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق آندھرا پردیش (12.6 فیصد)، آسام (11.7 فیصد)، بہار (11 فیصد)، تریپورہ (21.9 فیصد)، مغربی بنگال (16.4 فیصد) میں پانچ سال سے لے کر 15 سے 19 سال کی عمر میں بہت سی خواتین یا تو ماں بن چکی تھیں یا حاملہ تھیں۔ سروے این ایف ایچ ایس 5 کے تحت 6.1 لاکھ گھرانوں میں کیا گیاتھا، جس میں انٹرویوز کے ذریعے آبادی، صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور تغذیہ سے متعلق عوامل کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔ بہار (40.8 فیصد)، تریپورہ (40.1 فیصد) اور مغربی بنگال (41.6 فیصد) ان ریاستوں میں شامل ہیں جہاں سروے کئے گئے،جس کے مطابق 20 سے 24 سال کی خواتین کی اکثریت 18 سال کی عمر سے پہلے ہی شادی شدہ تھی۔ شادی کی عمر میں قانونی عمر 18 سال ہے۔
سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ آسام میں 20 سے 24 سال کی عمر کی31.8 فیصد خواتین نے 18 سال کی عمر میں شادی کرلی ہے۔ آندھرا پردیش میں ایسی خواتین کی تعداد 29.3 فیصد، گجرات میں 21.8 فیصد، کرناٹک میں 21.3 فیصد، مہاراشٹرا میں 21.9 فیصد، تلنگانہ میں 23.5 فیصد اور دادرا اور نگر حویلی اور دمن اور دیو میں 26.4 فیصد پائی گئی۔ ریاستوں اور وسطی علاقوں کے سروے میں، شادی کی قانونی عمر سے پہلے شادی شدہ مردوں کی تعداد 21 ہے، جو خواتین کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ وزارت صحت نے کہا تھا کہ این ایف ایچ ایس کے نتائج پہلے مرحلے میں 17 ریاستوں اور پانچ مرکزی علاقوں میں جاری کردئے گئے ہیں اور جس ریاستوں میں دوسرے مرحلے میں سروے کیا جارہا ہے اس کے نتائج اگلے سال جاری کئے جائیں گے۔